درشن تیرے جمال کا مانگتا ہوں اور بس
ملنے تیرے کی خواہش رکھتا ہوں اور بس
کلمہ کلام میرا ہے وحدت تیرے کی بات
اوراد عشق تیرے کا پڑھتا ہوں اور بس
نحو فقہ سے خاطر میرا ملول ہے
کسب فنا میں کوشش کرتا ہوں اور بس
کثرت کے پنجرے میں جدا اس بہار سے
بسمل صفت ہجر سوں پھڑکتا ہوں اور بس
آتش سے درد و غم میں ہمہ شب مثال شمع
اس صبح کے فراق میں جلتا ہوں اور بس
میری طرف سے جاکے صبا کہہ پیا کے تائیں
تشریف لاؤ وگرنہ میں مرتا ہوں اور بس
’’ بیدل ‘‘ نہ ہو توں درد کے دریا میں اتنا غرق
میں بھی تیرے خیال میں رہتا ہوں اور بس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حضرت صوفی فقیر قادر بخش بیدل
ملنے تیرے کی خواہش رکھتا ہوں اور بس
کلمہ کلام میرا ہے وحدت تیرے کی بات
اوراد عشق تیرے کا پڑھتا ہوں اور بس
نحو فقہ سے خاطر میرا ملول ہے
کسب فنا میں کوشش کرتا ہوں اور بس
کثرت کے پنجرے میں جدا اس بہار سے
بسمل صفت ہجر سوں پھڑکتا ہوں اور بس
آتش سے درد و غم میں ہمہ شب مثال شمع
اس صبح کے فراق میں جلتا ہوں اور بس
میری طرف سے جاکے صبا کہہ پیا کے تائیں
تشریف لاؤ وگرنہ میں مرتا ہوں اور بس
’’ بیدل ‘‘ نہ ہو توں درد کے دریا میں اتنا غرق
میں بھی تیرے خیال میں رہتا ہوں اور بس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حضرت صوفی فقیر قادر بخش بیدل

